ആദ്യത്തെ 200 വരികൾ.
- رُک جاؤ، ورنہ گولی مار دوں گا! - نہیں!
میرا نام ٹوکیو ہے۔
لیکن اس کہانی کے آغاز کے وقت میرا نام یہ نہیں تھا۔
وہ میں ہوں۔
اور وہ میری محبت۔
میں نے اسے آخری بار کھلی آنکھوں کے ساتھ خون کے تالاب میں گرا دیکھا تھا۔
ہم نے 15 کامیاب ڈاکے ڈالے۔
لیکن محبت اور دھندے کو ملانے کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔
لہٰذا جب سکیورٹی گارڈ نے گولی چلائی تو مجھے اپنا پیشہ بدلنا پڑا،
اور میں ڈاکو سے قاتل بن گئی۔
اور اس طرح میں نے بھاگنا شروع کیا۔
دیکھا جائے تو میں بھی مُردہ ہوں۔
قریب قریب مُردہ۔
برائے فروخت
میں 11 دن سے روپوش ہوں
اور میری تصویر اسپین بھر کے تمام پولیس اسٹیشنوں میں آویزاں ہے۔
مجھے 30 سال قید کی سزا ہوگی۔
اور سچ کہوں تو
قید خانے میں بوڑھا ہونے کا مجھے کوئی شوق نہیں۔
بہتر ہے کہ میں بھاگتی رہوں۔
جسم اور روح کے ساتھ۔
اور اگر میں اپنے جسم کے ساتھ فرار نہ بھی ہو سکی۔۔۔
تو کم از کم میری روح کو آزادی مل جائے گی۔
وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے مجھے کچھ کام نمٹانے ہیں۔
بلکہ ایک اہم کام۔
ہیلو؟
امّاں؟
اوہ، میری بیٹی!
کیسی ہو تم، میری جان؟
کیا چل رہا ہے؟
آپ نے خبریں دیکھی ہیں نا؟
آپ نے سنا کہ وہ میرے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں؟
ہاں، میں نے وہ سنا ہے۔
ایک بات کہوں؟
میں سفر پر جانے کا سوچ رہی ہوں۔ مجھے کسی چینی جہاز پر نوکری بھی مل سکتی ہے۔
باورچی کی۔
آپ نے کہا تھا نا کہ میں انڈا بھی نہیں بنا سکتی؟ تو میں سیکھ لوں گی۔
پتا نہیں، میری جان۔ اگر وہ چائنیز کھانے کھاتے ہوئے تو؟
اس سفر سے کیا مراد ہے تمھاری؟
یہ کہ میں تمھیں دوبارہ نہیں دیکھ سکوں گی؟
ارے، ایسے تو نہ کہیں۔ ہم ضرور ملیں گے۔
میں آپ کے لیے ٹکٹ بھیجوں گی تاکہ آپ مجھ سے ملنے آسکیں۔
کہاں ملنے آسکوں؟
قبرستان میں؟
آپ اکیلی ہیں؟
– امّاں، کیا آپ اکیلی ہیں؟ – ہاں۔
تو آپ ایسے باہر نکلیں جیسے بازار جا رہی ہوں۔
میں آپ کو ڈھونڈ لوں گی۔
اور اُس دن، جب میں جال میں پھنسنے جا رہی تھی
تو ایک فرشتہ آ پہنچا۔
ویسے ہم یقین سے تو نہیں کہہ سکتے کہ کوئی فرشتہ کیسا نظر آتا ہوگا،
لیکن یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ 1992ء ماڈل کی مقامی گاڑی چلا رہا ہوگا۔
سنو، تمھارے پاس ایک منٹ ہے؟
نہیں۔
چینی جہاز پر کھانا پکانے کا ایک ہی فائدہ ہے۔
وہاں برتن نہیں دھونے پڑیں گے۔
ایک لمحے کے لیے میں نے چینی لوگوں کے بارے میں سوچا
اور یہ کہ مجھے تھوکنے والوں سے نفرت ہے۔
- کون ہو تم؟ پولیس والے؟ - ٹھہرو۔
یہ ایک جال ہے۔ پولیس اسکواڈ تمھارا منتظر ہے
اور سراغ رساں چھ دن سے گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔
میں تمھارا یقین کیوں کروں؟
اور یوں میری ملاقات پروفیسر سے ہوئی،
کہ میں نے اس کی ٹانگوں کے درمیان پستول تانی ہوئی تھی۔
میں کچھ دکھاؤں؟
تعلقات کی خوبی یہ ہوتی ہے
کہ آپ ان کا آغاز بھول جاتے ہیں۔
میں کچھ دکھاؤں؟
وہ پہلے ہی تمھاری ماں کے گھر پر موجود ہیں۔
اسی لیے میں تمھاری مدد کرنے آیا ہوں۔
میرے پاس تمھارے لیے ایک کام ہے۔
ایک واردات۔ ایسی واردات جو۔۔۔
بے مثال ہو۔
مجھے ایسے لوگوں کی تلاش ہے جو۔۔۔
ایسے لوگ جن کے پاس کھونے کو کچھ نہ ہو۔
2.4 ارب یورو۔۔۔
سننے میں کیسا لگتا ہے؟
آج تک کسی نے اتنا بڑا ہاتھ نہیں مارا،
نہ نیو یارک میں، نہ لندن، نہ مونٹی کارلو میں۔
اگر میری تصویر دوبارہ اخبار میں آئی
تو کم از کم وہ تاریخ کی سب سے بڑی واردات کے حوالے سے ہوگی۔
خوش آمدید۔
آپ لوگوں کو خوش آمدید،
اور
شکریہ کہ آپ نے ملازمت کی یہ۔۔۔
پیشکش قبول کی۔
ہم یہاں رہیں گے، دنیا اور اس کے ہنگاموں سے دُور۔۔۔
پانچ مہینوں تک۔ ان پانچ مہینوں میں ہم سیکھیں گے کہ
- واردات کیسے کی جائے گی؟ - کیا مطلب ہے، پانچ مہینے؟
کیا تم پاگل ہو؟
دیکھو، لوگ برسوں تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔۔۔
تنخواہ حاصل کرنے کے لیے، جو بہرحال
محض معمولی تنخواہ ہی ہوتی ہے۔
پانچ مہینے کون سا بڑا عرصہ ہے؟
میں اس کے بارے میں
ایک طویل عرصے سے سوچ رہا ہوں
تاکہ مجھے دوبارہ کبھی کام نہ کرنا پڑے۔
اور نہ ہی تم لوگوں کو۔۔۔
اور نہ تمھارے بچّوں کو۔
چلو۔
تم لوگ ابھی ایک دوسرے کو نہیں جانتے اور ایسا ہی رہنا چاہیے۔
نہ تم لوگ اپنا نام استعمال کروگے
نہ ذاتی سوالات پوچھوگے۔۔۔
اور آپس میں ذاتی تعلقات تو بالکل نہیں۔
میں چاہتا ہوں کہ تم سب اپنا کوئی نام منتخب کرو،
وہ کوئی نمبر، سیارے یا شہر کا نام ہوسکتا ہے۔۔۔
- جیسے 17 صاحب، 23 صاحبہ۔
آغاز ہی بُرا ہے۔ مجھے تو اپنا ٹیلی فون نمبر یاد نہیں رہتا۔
میں نے اسی لیے کہا تھا۔
سیاروں کے نام؟ میں مریخ ہوسکتا ہوں، وہ یورینس ہوسکتا ہے۔
میں یورینس نہیں بنوں گا۔ بھول جاؤ۔
- یورینس میں کیا برائی ہے؟ - وہ سننے میں اچھا نہیں لگتا۔
- شہروں کے نام رکھ لیتے ہیں۔ - ٹھیک ہے۔ شہروں کے نام۔
بالکل۔
اور یوں میں نے اپنا نام ٹوکیو منتخب کیا۔
اور میرے کولھے تاڑنے والے کا نام برلن ہے۔
ایک مطلوب مجرم۔
ستائیس ڈاکے۔
زیورات کی دکانیں، نیلام گھر، اور بکتر بند گاڑیاں۔
اس کا سب سے بڑا کارنامہ پیرس میں شانزے لیزے۔
434 ہیرے۔
یہ سوئمنگ پول میں کسی شارک کی مانند ہے۔
آپ اس کے ساتھ تیر سکتے ہیں لیکن کبھی بے فکر نہیں رہ سکتے۔
اور وہ اس واردات کا انچارج تھا۔
وہ کھانسنے والا شخص ماسکو ہے۔
اس نے آستوریاس میں کان کھودنے سے آغاز لیا۔
پھر اسے احساس ہوا کہ اوپر کھدائی کا مستقبل زیادہ روشن ہے۔
چھ پوستین کی دکانیں، تین گھڑیوں کی دکانیں، اور ایویلیس قصبے کی کریڈٹ یونین۔
وہ تھرمل اور دیگر صنعتی آلات کا ماہر ہے۔
ماسکو کے پیچھے ڈینور بیٹھا ہے، اس کا بیٹا۔
نشئی، کٹے ہوئے دانت اور ٹوٹی ہوئی پسلی۔
لڑائی جھگڑوں کا بادشاہ۔ پورا پاگل انسان۔
کسی بھی بہترین منصوبے میں یہ چلتا پھرتا ٹائم بم ہوگا۔
ریو، میری واحد کمزوری۔
یہ کمپیوٹر کا دیوانہ ہے۔
یہ چھ سال کی عمر سے کوڈنگ کر رہا ہے۔ اسے الارم اور الیکٹرونکس کے بارے میں ہر بات پتا ہے۔
دیگر معاملوں میں، یہ ایسا ہے جیسے کل ہی پیدا ہوا ہو۔
اور وہ ہیں دو جڑواں، ہیلسنکی اور اوسلو۔
انتہائی بہترین منصوبے کو بھی سپاہیوں کی ضرورت ہوتی ہے،
اور اس کام کے لیے دو سرب لوگوں سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟
ہوسکتا ہے کہ وہ سوچتے بھی ہوں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمیں کبھی پتا نہیں چل سکے گا۔
نیروبی۔۔۔
انتہائی امید پرست۔
وہ 13 سال کی عمر سے جعلی نوٹ بنا رہی ہے
اور اب وہ ہماری کوالٹی کنٹرول منیجر ہے۔
وہ سرپھری ضرور ہوسکتی ہے لیکن ہے بہت ہی مست لڑکی۔
تصور کرو کہ روزانہ خبرنامے میں ہمارا ذکر ہوا کرے گا۔
اور ملک کے تمام لوگ حیران ہوں گے۔۔۔
کہ ہم آخر کیا کر رہے ہیں۔
جانتے ہو، وہ کیا سوچ رہے ہوں گے؟
’’کاش اس واردات کا خیال ہمیں آیا ہوتا۔‘‘
پروفیسر، نہ کوئی مجرمانہ پس منظر نہ ریکارڈ۔
اس نے 19 سال کی عمر سے اپنا شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔
ہر اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ ایک بھوت ہے۔ ایک ہوشیار بھوت۔
وہ اس لیے کہ ہم کسی اور کا پیسہ نہیں چُرائیں گے۔
بلکہ وہ تو ہمیں پسند کریں گے۔
اور یہ بہت اہم ہے۔
ہمارے لیے یہ بہت اہم ہے کہ عوامی رائے ہمارے حق میں ہو۔
وہ لوگ ہمیں اپنے ہیرو کے روپ میں دیکھیں گے۔
لیکن ہمیں بہت احتیاط کرنی ہوگی۔۔۔
کیونکہ جس لمحے خون کا ایک قطرہ بھی گرا، یہ بات انتہائی اہم ہے۔۔۔
اگر کوئی ایک بھی بندہ ہلاک ہوا۔۔۔
تو ہم رابن ہُڈ نہیں رہیں گے، بلکہ ہم حرامی بن جائیں گے۔
پروفیسر؟
محترمہ ٹوکیو۔
ہم کیا چُرانے والے ہیں؟
مہر خانۂ اسپین۔ (مہرخانہ، جہاں کرنسی تیار ہوتی ہے)
واردات
واردات کا دن جمعہ۔ صبح 8:35۔
یہ ماسک کس نے منتخب کیے ہیں؟
- کیا مسئلہ ہے ماسک کے ساتھ؟ - یہ ڈراؤنے نہیں ہیں۔
ڈاکا ڈالنے والی فلموں میں ڈاکو ڈراؤنے ماسک پہنتے ہیں۔
بھوتوں کے، ڈھانچوں کے، چڑیلوں کے۔ پتا نہیں کیسے کیسے۔۔۔
ہاتھ میں بندوق ہو تو ایک پاگل آدمی کسی ڈھانچے سے زیادہ ڈراؤنا لگتا ہے۔
- بس کرو۔ - یہ مونچھوں والا آدمی کون ہے؟
بیٹا، وہ ’دالی‘ ہے، ایک زبردست اسپینی مصوّر۔
- مصوّر؟ - ہاں۔
- تصویریں بنانے والا مصوّر؟ - ہاں۔
جانتے ہیں، سب سے ڈراؤنا کیا ہوتا ہے؟ بچّوں کے کارٹون۔
وہ انتہائی خوف ناک ہوتے ہیں۔
کون سے کارٹون؟
ٹام اینڈ جیری، مکی ماؤس، یہ سب۔
یعنی بڑے کانوں والا چوہا زیادہ خوف ناک ہوتا ہے؟
ہاں، احمق۔ اب کیا تیرے سر پر گھونسا مار کر سمجھاؤں؟
- اے! - میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ سنیں تو سہی۔
اگر کوئی شخص بندوق کے ساتھ مکی ماؤس کا ماسک پہنا نظر آئے
تو لوگ سوچیں گے کہ یہ پاگل ہے، اور یہاں خون خرابا ہونے والا ہے۔
جانتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ ہتھیار اور بچّے
دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ ہے نا، بابا؟
اس نظر سے دیکھا جائے تو یہ زیادہ خطرناک ہوگا۔
یعنی مسیح کا ماسک تو اور زیادہ خوف ناک ہوگا۔ کیونکہ وہ زیادہ معصوم تھے۔
جیسے کہتے ہیں نا کہ "مسیح کے ہاتھ میں دو بندوقوں جتنا حیران کن"۔
- اصل مقولہ یہ ہے کہ "بزرگ کے ہاتھ میں دو بندوقیں"۔ - جو بھی ہو۔
ٹیم میں خواتین کی کمی نمایاں تھی۔
ایک عورت شادی کے لیے جوتے کے انتخاب میں دو دن ضائع کرسکتی ہے،
لیکن وہ کبھی بھی ڈاکہ ڈالنے کے لیے ماسک منتخب کرنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائے گی۔
ہمارا منصوبہ اب شروع ہونے جا رہا تھا۔
اور اس لمحے میں، مجھے اُن تمام معصوم لوگوں کا خیال آیا،
جن کی زندگی ہماری وجہ سے بدلنے والی تھی۔
مقامی شاہراہ ای 80۔ صبح 9:25۔
No comments yet. Be the first to leave one.