The first 200 lines.
بہت زمانے پہلے، دور کہیں
ایک سلطنت تھی، جو چین کی سرحدوں سے لیکر
بحیرہ احمر کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔
یہ تھی سلطنتِ فارس۔
جنگ میں بے خوف، فتح میں دانشمند،
جہاں کہیں بھی فارس کی تلوار جاتی، قانون ساتھ جاتا۔
سلطان کا شہر نذاف
فارس کا بادشاہ، شارامن
اپنے بھائی نظام کے ساتھ ملکر وفاداری اور بھائی چارے کے اصولوں پر حکومت کرتا تھا۔
بادشاہ کے دو بیٹے تھے جس پہ وہ بہت خوش تھا۔
جشن!
لیکن خداؤں کی نطر میں، بادشاہ کا خاندان ابھی نا مکمل تھا۔
حتیٰ کہ ایک دن بادشاہ نے ایک یتیم بچے
کی بہادری کا ایک واقعہ دیکھا۔
راستے سے ہٹ جاؤ!۔
رکو!۔
بھاگو!۔
بھاگو، بِس، بھاگو!۔
یہاں رکو۔
وہ بھاگ رہا ہے!۔
مجھے چھوڑ دو!َ
بادشاہ کے نام پر!۔
تمہارا کیا نام ہے، بچے؟۔ داستان، حضور۔
اور تمہارے والدین؟۔
بچے۔۔۔۔۔
بھائی، اسے ساتھ لے لیں۔
اس واقعے سے متاثر پو کر بادشاہ نے اس لڑکے داستان کو اپنے خاندان میں شامل کر لیا۔
ایک ایسا بیٹا، جو شاہی خاندان کا نہ تھا،
اور جس کی نظر اس کے تاج و تخت پہ نہ تھی۔
لیکن شاید اس دن کچھ غیر معمولی ہوا تھا،
کچھ ایسا جو سمجھ سے بالاتر تھا،
اس دن، ایک لڑکا جس کا خاندان بھی مشکوک تھا،
بن گیا تھا،
فارس کا شہزادہ
١٥ سال بعد
فارس کی سرحد
’الموت‘ کا مقدس شہر
کہانیوں کا شہر ’الموت‘ ، میری سوچ سے بھی زیادہ حیرت انگیز
اس کی خوبصورتی سے دھوکہ مت کھائیے، شہزادہ طاس باقی شہروں کی طرح یہ بھی ایک شہر ہی ہے۔
نرم ملک نرم مردوں کو جنم دیتے ہیں۔ انہوں نے غداری کی ہے، اور اب اس کی قیمت چکانی ہو گی۔
والد محترم نے یہ واضح کیا تھا کہ، الموت کو چُھوا بھی نہیں جائے گا۔
کچھ لوگ اس کو مقدس مانتے ہیں۔ لیکن چونکہ ہمارے والد بزرگوار یہاں موجود نہیں ہیں،
فیصلہ میرے ہاتھ میں ہے۔
میں اپنے محترم چچا اور دونوں بھائیوں سے
آخری مشورہ کرنا چاہوں گا۔ قابل اعتماد گارسِیو اور۔۔۔۔۔
داستان کہاں ہے؟۔
چلو! میں نے اپنی پورے مہینے کی تنخواہ اس پہ لگائی ہے!۔
یہ تو ذلالت ہے۔ تم خود کیوں نہیں کوشش کرتے؟۔
چلو اندر
بس اتنی ہی ہمت ہے؟۔
شہزادہ داستان!۔
شہزادہ داستان کہاں ہے؟۔
شہزادہ داستان یہاں نہیں ہے۔
عالم پناہ! مہربانی فرمائیے۔ شہزادہ طاس نے جنگی مشاورت کیلئے بلوایا ہے۔
میں آ رہا ہوں۔
ہمارے بہترین جاسوس نے الموت سے روانہ ہوئے ایک کاروان کی خبر دی۔
تلواریں، بہترین بناوٹ کی
فولادی نوکدار تیر۔
سردار کوش نے الموت کو معاوضے کا وعدہ کیا ہے۔
داستان، وہ ہمارے دشمنوں کو ہتھیار فروخت کر رہے ہیں۔
اسی طرح کا ایک تیر کوشکان میں میرے گھوڑے کی جان لے چکا ہے۔
اس کیلئے الموت کی گلیوں میں خون بہے گا۔
یا ہمارے سپاہی اسکی دیواروں سے گریں گے۔
ہمیں کوشکان کو روکنے کا حکم ہے، الموت پر حملے کا نہیں
دانائی کی باتیں، چھوٹے بھائی۔ صرف باتیں ہمارے دشمنوں کو روک نہیں سکیں گی،
جب کہ ان کے پاس اس طرح کی عمدہ تلواریں ہوں گی۔
ہم صبح سویرے حملہ کریں گے۔
اچھا، اگر یہی تمہارا فیصلہ ہے تو پہلے اندر مجھے جانے دو۔
کوئی کچھ کہنا چاہتا ہے۔ گارسیو؟ میں فارس کی فوج کا سالار ہوں!۔
اور داستان گلی کے غنڈوں کی فوج کا!۔
شاید وہ آداب میں اتنے اچھے نہ ہوں، لیکن لڑائی میں کوئی مقابل نہیں ان کا۔
پہلے خون کا اعزاز مجھے ملنا چاہئے۔ گارسیو، ہاتھ پھر سے تمہاری تلوار پر ہے۔
ادھر ہی ہونا چاہئے اسے!۔ - اوہ، میرے بھائی۔
ہمیشہ سے ضدی۔
کہا جاتا ہے کہ الموت کی شہزادی خوبصورتی میں بے مثال ہے۔
ہم خود اس کے محل میں جا کر دیکھ لیں گے۔
مجھے تمہاری بہادری پہ کوئی شک نہیں داستان، لیکن تم اس کیلئے ابھی تیار نہیں ہو۔
گارسیو کے گھڑ سوار پہلے جائیں گے۔
شہزادی تہمینہ، فارسی فوج ابھی آگے نہیں بڑھی۔
ان کے ایمان میں اپنے علاوہ کسی اور سچ کو قبول کرنا مشکل ہے۔
شاید یہ زیادہ محفوظ ہو گا اگر آپ اتنا قریب نہ کھڑی رہیں۔
ان کا ایمان جیسا بھی ہو، لیکن ان کی کمانیں اتنی مضبوط نہیں،
اور نہ ہی ان کا نشانہ۔
مجلسِ شوریٰ کو جمع کیجئے۔
انہیں بتائیے کہ میں بلند معبد میں ہوں، مجھے عبادت کرنی چائیے۔
بلند معبد؟ الموت میں ہزاروں سال سے کوئی داخل نہیں ہو سکا ہے۔
وقت کے ساتھ سب کچھ بدلتا ہے۔
ہمیں سب سے زیادہ اس بات کا ادراک ہونا چاہئے۔
مجھے دوبارہ بتاؤ کہ ہم تمہارے بھائی کے حکم کی نا فرمانی کیوں کر رہے ہیں؟۔
کیونکہ گارسیو سمجھتا ہے کہ حملہ سامنے سے کرنا چاہئے، یہ قتلِ عام ہو گا۔
الموتی اس وقت مرکزی دروازے پہ مصروف ہوں گے، اسلئے ہمیں پہلو میں نقب لگانی چاہئے۔
کیا تم نے پی رکھی ہے؟
یہ ہمارا طریقہ ہوگا۔ یہاں دو دروازے ہیں۔
باہر والا آسان ہے، اصل دروازہ اندر والا ہے جس سے گزرنا ناممکن ہے۔
اس پھاٹک کے نظام کی دو اہم برجیوں سے حفاظت کی جاتی ہے۔
اندر جانے کا ہمیشہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہوتا ہے بِس۔ تم بیرونی پھاٹک کا خیال رکھنا۔
نا ممکن والا مجھ پہ چھوڑ دو۔
اگر تم نے ہم سب کو مروا دیا تو گارسیو خوش نہیں ہو گا۔
اوہ، عمدہ تقریر، بِس!۔
پر جوش!۔
خطرے کا ناقوس بجاؤ!۔
اسے پکڑو۔
اپنی کمر بچا کے۔
مشرقی دروازہ کھل گیا ہے۔ یہ داستان کے آدمی ہیں۔
وہ وہاں پہنچ بھی گیا، داستان نے کر دکھایا۔
مشرقی پھاٹک کی طرف بڑھو۔
مشرقی پھاٹک کی طرف بڑھو!۔
انہوں نے مشرقی پھاٹک میں نقب لگا لی ہے۔
کمرے تک آنے کے راستے مسمار کردو۔ شہزادی۔
اب چلے جائیں، مبھی لوگ۔
آپ کو معلوم ہے کہ کیا کرنا ضروری ہے۔ ہماری دولت محفوظ رہنی چاہئے۔
راستے سے ہٹ جاؤ!۔
فضول نغمے اور خوشبودار دھواں اب تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔
میرا خیال ہے کہ تمہارے لئے یہ زیادہ ہے، یہ لو گارسیو۔
تو اصل میں سب کہانیاں درست ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ تم فارس کے دشمنوں کیلئے خفیہ طور پر ہتھیار بناتے ہو۔
اب ہمیں دکھاؤ کہ کہاں۔ ہمارے پاس کوئی اسلحہ کارخانہ نہیں ہے۔
اور جو ہتھیار ہمارے پاس تھے، تم نے دیکھ ہی لئے ہیں۔
ہماری جاسوس تو کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ تم بہت سی متوقع تکالیف کو روک سکی ہو۔
دنیا کی ساری تکلیفیں بھی اس چیز کو ڈھونڈنے میں تمہاری مدد نہیں کر سکتیں، جو موجود ہی نہیں ہے۔
باتوں سے لگتا ہے کہ ایک سیاسی حل پہ غور کرنے کے قابل ہیں آپ۔
فارس کے مستقبل کے بادشاہ سے ہاتھ ملا لیں اس سے پہلے میں مرنا پسند کروں گی۔
اس کا بندوبست بھی ہو سکتا ہے۔
رکو!۔
شہزادہ طاس۔۔۔۔
وعدہ کریں کہ الموت کے لوگوں سے رحمدلی کا سلوک کیا جائے گا۔
فارس کا شیر!۔
وہ تمہیں فارس کا شیر کہہ رہے ہیں۔
تم نے کبھی حکم نہیں مانا، داستان
میں کچھ وضاحت کرنا چاہتا ہوں، طاس۔ میں۔۔۔۔ نہیں نہیں۔
نہیں، تمہیں تو جشن کی تیاری کرنی چاہئے۔ تاہم ایک روایت ہے کہ
چونکہ تم نے پہلے حملے کا اعزاز حاسل کیا ہے، اسلئے تمہیں مجھے کوئی تحفہ، کوئی نذرانہ دینا ہو گا۔
ایک خوبصورت خنجر۔ اس نے آپ کو شہر اور اس کی شہزادی دی ہے۔
میرا خیال ہے یہ نذرانہ کافی ہے۔ میرا بھی یہی خیال ہے۔
پہلے ہرکارے ابھی ابھی پہنچے ہیں۔ شہزادہ معظم۔ خوشخبری ہے۔
آپ کے والد اپنی عبادات روک کر مشرقی محل میں ہمارے لئے تشریف لائے ہیں۔
ہماری شاندار فتح پر اس میں کوئی شک نہیں تھا۔
ہمیں خبریں ملی تھیں کہ الموت ہمارے دشمنوں کو اسلحہ دیتا ہے۔
خبریں؟ تمہارے پاس ایک مقدس شہر پر قبضہ کرنے کیلئے محض خبروں کے علاوہ کوئی جواز ہونا چاہئے تھا
اور وہ بھی میری فوجیں استعمال کرتے ہوئے!۔
یہ مہم، ہمارے اتحادیوں کو پسند نہیں آئے گی!۔
لیکن میرا خیال ہے کہ تمہیں کسی بات کی پروا نہیں ہے۔
اپنے چچا کی طرف مت دیکھو، لڑکے!۔
یہ فیصلہ اور اس کے نتائج کا ذمہ دار میں ہوں۔
میں جانتا ہوں کہ تم تاج پہننے کیلئے بے تاب ہو۔ لیکن میرا یقین کیا کرو جب میں یہ کہتا ہوں کہ تم ابھی اس کیلئے تیار نہیں ہو۔
آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا، والد محترم۔
کیوںکہ آپکے اعتماد کی ہی میں ہمیشہ قدر کرتا آیا ہوں۔
میں ہتھیاروں کی تلاش کا کام اپنی نگرانی میں کرواؤں گا۔
میں قسم کھاتا ہوں کہ الموت کی غداری کے ثبوت ملنے سے پہلے آپ کو نہیں ملوں گا۔
تیسرا حصہ ہی اصل مشکل ہے!۔
برادر!۔
ہمیں شہر کے مشرقی کنارے پہ خفیہ سرنگوں کے نشانات ملے ہیں۔ میں وہیں جا رہا ہوں۔
اوہ، تم ’بکاراٹ‘ میں نہیں آؤ گے!۔
تم اور گارسیو میری غیر موجودگی میں والد محترم کو سنبھال لینا۔
تمہارے پاس ان کو دینے کے لئے کوئی تحفہ تو ہے نا۔ کیوں نہیں۔
بِس، تحفہ!۔
ابھی تو یہیں تھا، مجھ سے گم ہو گیا شاید۔
مجھے معلوم تھا تم بھول جاؤ گے۔
الموت کے نائب اعلیٰ کا عبادت کا لباس۔
مشرقی سلطنتوں میں سب سے زیادہ مقدس لباس، ایسا تحفہ جو بادشاہ کو پسند آئے گا۔
تم میرے لئے ایک جانباز کی طرح لڑے، داستان۔ مجھے خوشی ہو گی۔
ایک نایاب ہیرا، میری طرف سے آج شام بادشاہ کو پیش کیا جائے گا، داستان۔
بھائی،کیا تمہیں واقعی ایک اور بیوی کی ضرورت ہے۔
میری بات سنو، داستان!۔
شہزادی سے شادی، اس کے لوگوں کی وفاداری کو ظاہر کرتی ہے۔
میں اپنے لوگوں کیلئے یہ کر رہا ہوں، وہ ایک خطرناک ذمہ داری ہے۔
اگر والد محترم ہماری شادی پر رضامند نہ ہوں، تو میں چاہوں گا کہ تم اسے اپنے ہاتھوں سے ختم کردو۔
تو،کیا مجھے واقعی شہزادہ داستان کے ساتھ چلنا ہو گا، فارس کے شیر۔
ایک معصوم شہر کو تباہ کرکے ایسا اعلیٰ خطاب ملنے پر بہت خوشی ہو رہی ہوگی۔
اوہ، تم سے مل کر بھی خوشی ہوئی، شہزادی۔
اور مجھے یہ کہنے کا موقع دیجئے کہ اپنے بادشاہ کے دشمنوں کو سزا دینا
ایک ایسا جرم ہے جو میں بار بار کرنا چاہوں گا۔
پھر تو تم ایک سچے شہزادے ہو فارس کے۔ بے عزت ظالم
شہزادی، اس غلط فہمی میں مت رہو کہ تم مجھے جانتی ہو۔
اچھا، تو اور کیا ہو تم؟ ملکہ عالیہ کے ساتھ یہاں انتظار کرو۔
اگر تم یہ کر سکو تو۔
میرا مشورہ ہے کہ بادشاہ کے سامنے تھوڑی سی عاجزی کا مظاہرہ کرنا۔
تمہارے لئے ہی اچھا ہو گا۔
آپ نے والد محترم کا غصہ ٹھنڈا کر دیا، چچا جان؟
ایک دن، تمہیں بھی ایک بادشاہ کا بھائی ہونے کا فخر حاصل ہو گا، داستان۔
اپنا سب سے اہم فرض ہمیشہ یاد رکھنا اور نبھاتے رہنا۔
کون سا فرض؟ اس بات کا یقین کہ اس کا جام خوش ذائقہ رہے۔
ایک جام، میرے ایک اور بیٹے کے نام جو فارس کے عظیم جنگجوؤں کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔
ہم نے آپ کو بہت یاد کیا، والد محترم میں تمہارے اور تمہارے بھائیوں کیلئے دعائیں کر رہا تھا، داستان۔
ایک خاندان، بھائیوں کے درمیان یہ تعلق ہی وہ تلوار ہے جو ہماری سلطنت کی ضامن ہے۔
میں نے دعا کی کہ یہ تلوار ہمیشہ مضبوط رہے۔
میں نے یہ سب اس لئے کیا کہ ان کو غیر ضروری تقصانات سے بچا سکوں۔
ایک اچھا آدمی وہی کرتا جو تم نے کیا، داستان
بہادری اور ہمت کا مظاہرہ فتح کیلئے اور جانوں کو بچانے کیلئے۔
لیکن ایک عظیم شخص اس حملے کو ہونے سے ہی روک لیتا
عظیم آدمی ہمیشہ غلط کام کو ہونے سے روکتا ہے
چاہے حکم دینے والا کوئی بھی ہو۔
جو لڑکا میں نے اس چوک میں دیکھا تھا
وہ صرف اچھا بننے کے قابل نہیں تھا بلکہ
عظیم بن سکتا تھا۔
خیر، فی الحال میرے پاس آپ کیلئے ایک تحفہ ہے۔
کچھ لوگوں نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ میں نے گلی سے ایک لڑکے کو اٹھا کر اپنے خاندان میں کیوں شامل کیا۔
میں نے ایک لڑکا دیکھا تھا، جس کا خاندان تو نفیس نہیں تھا
لیکن اس کا کردار ضرور تھا۔ ایک حقیقی بادشاہ۔
بہت شکریہ، والد محترم
No comments yet. Be the first to leave one.